اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حکیم اللہ محسود جمعہ کی شام کو شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل کے علاقے میں ایک گھر میں طالبان شوری کے ایک اجلاس میں شریک تھا جب امریکی ڈرونز نے اسی گھر پر میزائل داغے۔ غیرملکی رپورٹوں کے مطابق اس حملے ميں چار افراد مارے گئے ہيںادھر پاکستانی اخبار جنگ نے غیر ملکی خبررساں اداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ امریکیوں کے ڈرون حملے میں تحریک طالبان کا سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوچکا ہے۔ جنگ لکھتا ہے: ایک برطانوی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ جمعہ کی شام کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو مارا گیا ہے۔ جنگ کے مطابق اس حملے میں ہالکین کی تعداد 6 تک پہنچی ہے اور ذرائع کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے کے قریب میرانشاہ کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں دوجاسوس طیاروں نے ایک گھر پر چار میزائل داغے جس سے گھر اورایک گاڑی تباہ ہوگئی۔حملے میں 4 افراد موقع پر ہلاک جبکہ 2 زخمی ہوئے جو بعد میں دم توڑگئے۔ذرائع کاکہنا تھا کہ حملے میں تباہ ہونے والا گھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا مرکز تھا، جبکہ تباہ ہونیوالی گاڑی حکیم اللہ محسود کے زیر استعمال تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق حکیم اللہ محسود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکز آتا رہتا تھا تاہم حملے کے وقت حکیم اللہ محسود کے گاڑی میں موجود ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔واضح رہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبر شائع کرنے والوں نے یہ نہيں کہا ہے کہ اس کو گاڑی میں مارا گیا ہے بلکہ ان کا خیال ہے کہ وہ مذکورہ مرکز میں طالبان شوری کے اجلاس میں شریک تھا۔ ذرائع کے مطابق ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دو کمانڈر طارق محسود اور عبداللہ مارے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملے کے وقت مرکز میں کالعدم تحریک طالبان کی شوریِ کا اجلاس جاری تھا تاہم یہ معلوم نہيں ہوسکا کہ اس اجلاس کا موضوع کیا تھا؟ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ محرم الحرام کی آمد آمد پر دہشت گرد ٹولے کے اس اجلاس کا ہنگو اور پاراچنار میں دہشت گردانہ کاروائیوں کی منصوبہ بندی سے بھی ہوسکتا ہے۔
پاکستانی وزارت داخلہ نے بھی حکیم اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حملے میں 25 افراد مارے گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان میں میزائل حملے میں پاکستان کو انتہائی مطلوب کالعدم تنظیم کا سربراہ حکیم اللہ محسود پچیس ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ شمالی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر میران شاہ کے قریبی علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں ایک میزائل حملے میں حکیم اللہ محسود پچیس قریبی ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں حکیم اللہ محسود کا ذاتی محافظ طارق محسود اور ڈرائیور عبداللہ محسود بھی شامل ہے۔ رائٹرز کے مطابق، جس جگہ میزائل حملہ ہوا وہ طالبان کا ہیڈ کوارٹر سمجھا جاتا ہے۔۔ پاکستان کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کے علاوہ خود طالبان نے بھی حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جس علاقے میں حملہ ہوا پاکستان کے مذاکراتی وفد نے ہفتہ کو اسی جگہ جانا تھا۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے شمالی وزیرستان میں میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل حملے ملکی سلامتی اور خود مختاری کے خلاف ہیں۔ ادھر آئی ایس پی آر کے سابق ڈی جی اطہر عباس نے کہا ہے کہ حکیم اللہ کی ہلاکت سےمذاکراتی عمل تعطل کاشکار ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت خوش آئند ہے لیکن اس سے کالعدم طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگا، دہشت گردوں نے عوام اور فوج کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔انھوں نے کہا: کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو وقتی طور پر تو نقصان پہنچا ہے لیکن ایسی تحریکیں جلد دوبارہ کارروائیاں شروع کردیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے خفیہ ادارے تحریک طالبان پاکستان کی مدد کرتے رہے ہیں توجہ دلانے پر بھی افغان حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے بعد حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوجائے گا۔میجر جنرل ریٹائرڈ اطہر عباس نے کہا کہ میزائل حملے کی وجہ سے رائے عامہ خلاف ہوجاتی ہے لیکن دہشت گردوں نے فوج اور عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
طالبان کے سرغنہ کی ہلاکت کے بعد ملک میں ہائي الرٹ
حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا گیا؛ طالبان نے تصدیق کردی
حکیم اللہ محسود کی نامعلوم مقام پر تدفین کی گئی
حکیم اللہ کی ہلاکت کےبعد خان سجنا کالعدم پاکستانی طالبان کا سربراہ مقرر